تحریر: حافظہ سیدہ معصومہ
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
جوانی انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت، قیمتی اور فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ اس عمر میں انسان کے اندر قوت، ہمت، سیکھنے کا جذبہ اور بڑے مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اگر نوجوان اپنی جوانی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، علم کے حصول، اچھے اخلاق اپنانے اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق گزارے، تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اہلِ بیتؑ نے نوجوانوں کی تربیت، کردار سازی اور خودسازی پر خصوصی زور دیا ہے۔
خودسازی کیا ہے؟
خودسازی کا مطلب اپنے آپ کو بہتر بنانا ہے، یعنی اپنی بری عادتوں کو ترک کرنا، اچھے اخلاق اختیار کرنا، نماز کی پابندی کرنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، سچ بولنا، والدین کا احترام کرنا اور ایسے اعمال انجام دینا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔ جو شخص روزانہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے اور انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں خودسازی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "بے شک وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں آلودہ کر لیا۔"(سورۂ شمس: 9-10)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی کامیابی نفس کی پاکیزگی اور بہترین کردار کی تعمیر میں ہے۔
اہلِ بیتؑ کی نظر میں جوانی
اہلِ بیتؑ نے جوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ جوانی ہمیشہ باقی نہیں رہتی، اس لیے اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرو، بلکہ اسے نیک اعمال اور مفید کاموں میں صرف کرو۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ نوجوان کا دل زرخیز زمین کی مانند ہوتا ہے۔ اس میں جو بیج بویا جائے، وہی پروان چڑھتا ہے۔ اگر اس میں ایمان، علم اور اچھے اخلاق کی آبیاری کی جائے تو وہ بہترین انسان بنتا ہے، اور اگر بری عادتیں اور گناہ اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو اس کا کردار بھی خراب ہو جاتا ہے۔
نوجوان اپنی خودسازی کیسے کریں؟
1۔ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
روزانہ نماز کی پابندی کریں، قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، دعا کریں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں۔
2۔ علم حاصل کریں۔
دینی اور دنیوی دونوں علوم حاصل کریں، کیونکہ علم انسان کی شخصیت کو نکھارتا اور اسے کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
3۔ اچھے اخلاق اپنائیں۔
سچ بولیں، امانت دار بنیں، صبر و تحمل اختیار کریں، دوسروں کا احترام کریں اور ہمیشہ نرم لہجے میں گفتگو کریں۔
4۔ برائیوں سے بچیں۔
جھوٹ، غصہ، حسد، تکبر اور دیگر گناہوں سے بچنے کی مسلسل کوشش کریں۔
5۔ اچھے دوستوں کا انتخاب کریں۔
ایسے دوست بنائیں جو نماز، علم، نیکی اور اچھے کردار کی طرف رہنمائی کریں، کیونکہ انسان اپنے دوستوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
6۔ وقت کی قدر کریں۔
اپنا قیمتی وقت فضول مشاغل میں ضائع نہ کریں، بلکہ اسے تعلیم، عبادت، والدین کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح و بھلائی کے لیے استعمال کریں۔
آج کے نوجوانوں کے لیے پیغام:
آج کے دور میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر غیر ضروری مشاغل نوجوانوں کے قیمتی وقت کا بڑا حصہ لے لیتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنے وقت کی صحیح منصوبہ بندی کریں، اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھیں، علم حاصل کریں اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر عمل کریں، تو وہ ایک کامیاب، باکردار، بااعتماد اور بااخلاق انسان بن سکتے ہیں۔ یہی خودسازی کا راستہ ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ